Saturday, October 22, 2022

Career Counselling for Inter Students

 انٹرمیڈیٹ کے بچوں کے لئے چند گذارشات:

صرف ایک بات ذہن میں رکھیں کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں سرکاری نوکری کا تناسب ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا
لہذا جو فیصلہ بھی کریں صرف اس ایک نقطے کو سامنے رکھ کر کریں ۔
۔صرف پنجاب میں 16 ہزار سے زائد ڈاکٹرز سرکاری نوکری کے لیے سرگرداں ہیں۔ ہمارے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپکو بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ ابھی اس میں فارن گریجوایٹ شامل نہیں۔ ان کو جب تک لائسنس نہ ملے تب تک تو ڈگری کا نام ہی نہیں ہوتا کچھ بھی۔
۔
نیوٹریشن ۔آپٹی میٹری، فزیو تھراپی ۔اڈیالوجی ۔فارمیسی وغیرہ میں اگلے کئی سال تک سرکاری نوکریوں کا کوئی چانس نہیں ہے ۔۔
پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہ اتنی کم ہے کہ ایک شخص اپنا گزارہ بھی بہت مشکل کر سکے گا ۔ اول تو سرکاری اداروں میں داخلہ ملنا ہی محال۔ مل جائے تو اخراجات اتنے کہ تھوڑی آمدن والے برداشت نہیں کرسکتے۔ مارکس 1050 سے زیادہ ہوں تو ہی آپ سوچ ہی سکتے ان پروگرامز بارے۔۔
۔لہذا اگر آپ نے یہ ڈگریاں لینی ہے تو یہ سوچ لیں کہ ان کا سکوپ صرف پاکستان سے باہر ہو سکتا ہے پاکستان میں ہرگز نہیں ہے ۔ دوسرا آپشن اپنے کاروبار کا ہوتا۔ اس میں بھی انتھک محنت ، لگن اور کوشش چاہیے ہوتی اور بہت صبر آزما مراحل۔۔ فیملی بزنس ہوتو پرائیویٹ ڈگری کرنے میں بھی حرج نہیں۔
۔
ایم اے بی اے ۔بی ایس چار سالہ پروگرام باٹنی اردو پاک سٹڈی ۔
کسی پرائیویٹ سکول میں شاید آٹھ ہزار سے 30 ہزار تک مل سکتے ہیں ۔۔۔
یعنی تین سو روپیہ روزانہ سے ایک ہزار روپیہ روزانہ تک ۔۔ لیکن کچھ بھی کرلیں اپنے ذہن کے مطابق، اپنے گھر کی آمدن مطابق ۔۔ آج کل ورچوئل اسٹڈیز کا زمانہ ہے۔ خصوصی طور پر کرونا کے بعد دنیا کا نظریہ تبدیل ہو گیا ہے۔
۔
جو لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ ایم بی بی ایس کرانا چاہ رہے ہیں ۔۔۔
ان کی دو اقسام ہیں
۔ایک جو بہت آسانی سے افورڈ کر سکتے ہیں
یعنی ان کی سالانہ آمدن پچاس لاکھ روپے سے زیادہ ہے اور ان کا کوئی اور بچہ کسی پرائیویٹ ادارے میں زیر تعلیم نہیں ہے ۔۔۔۔وہ ضرور کریں
۔
لیکن اگر آپ اس سے کم ہے تو ہرگز رسک نہیں لینا
اگر آپ اپنا آبائی مکان یا دوکان وغیرہ بیچ کر بھی اس کی فیسیں اور اخراجات ادا کردیں تو آپ کے باقی بچے رل جائیں گے ۔۔۔
۔تو کیا کریں ؟؟
۔آپ کو یوروین ماڈیول اپنانا ہوگا
۔کوئی پروفیشنل ہنرمند ڈگری لینی ہوگی ۔
کرسی پر بیٹھ کے فائل سامنے رکھے ہوئے تصویر کھنچوانا ۔۔۔۔اب صرف ڈراموں اور فلموں میں نظر آئے گا
عملی میدان میں صرف وہی کامیاب ہوگا جسکے ہاتھ میں کوئی ہنر ہوگا ۔۔
۔میڈیکل کے بعد لڑکیوں کے لئے سب سے بہترین ڈگری نرسنگ ہوسکتی ہے جس میں اخراجات قابل برداشت ہوتے اور ڈگری کے بعد ملازمت کے مواقع بھی۔۔۔۔
یا پھر کوئی ہنر سیکھ لیں
آنے والا وقت مختلف قسم کے ہنر اور آئی ٹی کا ہے ۔خصوصا آن لائن ٹریفکنگ ۔اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ۔
ای-روزگار اور ڈیجی سکلز پہلے ہی بہت اعلیٰ کام کر رہے فری کورسز کروا کے۔
جو بھی کریں سوچ سمجھ کے کریں۔ سنیں سب کی مرضی اپنی کریں۔ خود کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ہائر ایجوکیشن لازمی حاصل کریں۔ چاہے کوئی بھی ڈگری کہیں سےہو جائے۔ گھر سے نکل کے راستے خود ہی نکل آتے۔ کچھ عرصہ میں اپنی طبیعت کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو کر رہے اسے کل کو جسٹیفائی بھی ہوسکتے یا نہیں۔
یاد رہے سب اداروں کے ایڈمیشن اوپن ہیں۔ 2-3 ہفتے تک۔ فی الحال اسی پر فوکس کریں۔ شادی، پارٹی اور اس طرح کے دوسرے لوازمات چلتے ہی رہتے۔ سب کچھ رک جاتا بس وقت نہیں رکتا۔
۔
Copied n some points by myself.

Saturday, May 06, 2017

کیرئیر کاؤنسلنگ

اگر آپ عنقریب اپنی پڑھائی مکمل کرنے جارہے ہیں اور آپ کے والد صاحب کا اپنا کوئی کاروبار، ملیں یا فیکٹریاں نہیں تو پھر آپ کے پاس تقریباً ایک ہی چوائس بچتی ہے، اور وہ ہے نوکری کی۔
تھوڑی دیر کیلئے زرا سوچیں کہ تعلیم مکمل ہوتے ہی آپ کے دروازے کے باہر ایمپلائیر حضرات کی لائنیں لگ جائیں گی، وہ آپ کو سکس ڈیجٹ سیلری آفر کریں گے اور ساتھ بنگلے، گاڑی کی چابی بھی تھما دیں گے۔ دفتر میں گھومنے والی کرسی ملے گی، شیشے کا کیبن ہوگا، باہرخوبصورت سیکرٹری بیٹھی ہوگی، ساتھ والے کیبن میں کمپنی کے مالک کی خوبرو، کنواری لڑکی کا آفس ہوگا جو آپ کو صبح شام بہانے بہانے سے دیکھا کرے گی اور آپ کی اس قابلیت کے بھی واری صدقے جائے گی جس کی خبر آپ کو خود بھی نہیں۔ پھر وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آپ کو لنچ کی آفر کرے گی، پھر رفتہ رفتہ دوستی بڑھے گی جو آگے چل کر پیار میں بدل جائے گی۔ آپ کا باس جب یہ سب دیکھے گا تو خوشی سے پھولے نہ سمائے گا کہ اتنا ہونہار، خوبرو لڑکا اس کی بیٹی کو دس ہزار واٹ کا بلب لے کر بھی نہیں ملنا تھا۔ پھر وہ آپ کو اپنی لڑکی کا ہاتھ تھما دے گا، دھوم دھام سے شادی ہوگی، آپ ہنی مون منانے یورپ جائیں گے اور پیچھے سے کروڑپتی سسر کو ہارٹ اٹیک ہوجائے گا، آپ ہنی مون ادھورا چھوڑ کر واپس آجائیں گے اور پھر میت کے سرہانے آپ کی زوجہ کا خاندانی وکیل مرحوم سسر کی وصیت پڑھ کر سنائے گا جس کے مطابق اس کی تمام منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد کا مالک اس کا ہونہار داماد، یعنی کہ آپ ہوں گے۔
اگر آپ کے ذہن کے کسی دور دراز گوشے میں ایسا خیال موجود ہے تو اس خناس کو فوری طور پر ذہن سے نکال پھینکیں۔ آپ کے ساتھ ایسا کچھ بھی ہونے والا نہیں کیونکہ اگر آپ کی ایسی قسمت ہوتی تو آپ نوازشریف یا زرداری کے گھر پیدا ہوئے ہوتے۔
خیر، یہ جان لیں کہ آپ نے اپنی قسمت خود بنانی ہے اور اس کیلئے انتہائی مشکل حالات سے گزرنا پڑے گا، خوب محنت کرنا ہوگی اور کسی بھی موقع پر اپنے حوصلے کو پست نہیں ہونے دینا۔
جب آپ حقیقت کی دنیا میں آجائیں تو پھر جان لیں کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی پہلی نوکری ڈھونڈنے میں بہت وقت لگ جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کلاس فیلوز کو آپ سے پہلے بہت اچھی نوکریاں مل جائیں لیکن آپ ابھی تک دھکے ہی کھا رہے ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو گھبرانے کی بات نہیں۔ یہ ایک لمبی ریس ہے جس میں چند ہفتےیا مہینوں کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔
یہ بھی ذہن بنا لیں کہ شاید آپ کو اپنی پہلی نوکری کافی نچلے لیول کی ملے، وہ لیول جو شاید آپ کی کوالیفیکیشن کے اعتبار سے بہت کم ہو، یا پھر آپ کو ملنے والی نوکری کی تنخواہ آپ کی توقع یا آپ کے کلاس فیلوز کی تنخواہ سے بہت کم ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ سب سے پہلا اور اہم سٹیپ نوکری شروع کرنا ہے، تنخواہ، کام کی نوعیت، لوکیشن، پوزیشن، یہ سب ضمنی باتیں ہیں۔
میری پہلی جاب میں مجھے جو تنخواہ ملی تھی وہ میرے کلاس فیلوز کی اوسط تنخواہ کا نصف سے بھی کم تھی لیکن وہ فرق اللہ کی مہربانی سے چند مہینوں میں ختم ہوگیا تھا۔
اگر آپ کو اپنی تنخواہ بتاتے شرمندگی محسوس ہو تو بے شک اپنی تنخواہ زیادہ بتا دیں۔ میں خود کئی مہینے تک اپنے کلاس فیلوز کو اپنی تنخواہ ڈبل بتایا کرتا تھا ۔ ۔ ۔
یاد رہے، پہلی جاب کا حصول آپ کا سب سے اہم ٹارگٹ ہونا چاہیئے، اس وقت آپ کے پاس یہ لگژری نہیں کہ اپنی مرضی کا عہدہ اور تنخواہ ڈیمانڈ کرسکیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جس کمپنی میں آپ کو آفر ملی ہے، وہاں آپ کیلئے گروتھ کے چانسز ہیں تو بے شک وہ آپ کو ایک چپڑاسی سے کم تنخواہ دیں، فوراً قبول کرلیں۔ آپ اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے جارہے ہیں، ایک نیا تجربہ حاصل کرنے جارہے ہیں، پیسہ کمانے کیلئے تو عمر پڑی ہے، جب تجربہ آجائے تو پیسہ آپ کے پیچھے بھاگے گا ۔ ۔ ۔
مختصراً عرض ہے کہ پہلی جاب کیلئے آپ کو بہت سنجیدہ ہونا پڑے گا، حوصلہ بلند اورمسلسل کوشش کرنا ہوگی۔ کسی موقع پر ہمت ہار کر یہ مت سوچنا شروع کردیں کہ شاید آپ کو نوکری کبھی نہیں ملے گی۔ اللہ نے آپ کو پیدا کیا ہے، اس کی خدانخواستہ آپ سے کوئی دشمنی نہیں کہ آپ کو روزگار نہ دے۔ وہ آزمائش ضرور دے گا لیکن اس کے بعد بے انتہا انعام بھی عطا فرمائے گا۔
یہ ابھی صرف تمہید ہے، اگلی پوسٹ میں انشا االلہ اس بات پر روشنی ڈالوں گا کہ انٹرویو کی تیاری کیسے کرتے ہیں اورکس طرح اپنی کامیابی کے امکانات بڑھائے جاسکتے ہیں۔ا
 بقلم خود باباکوڈا

Friday, May 05, 2017

کاروبار اور کامیابی

سید قاسم علی شاہ
ممتاز سماجی، روحانی شخصیت اور پنجاب بناسپتی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ملک خالد یعقوب کاروبار اور کامیابی کے حوالے سے اپنا اظہارخیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1984ء میں لاہور سے سیل مین کی جاب سے اپنی پریکٹیکل زندگی کا آغاز کیا اور 1990ء میں جاب چھوڑ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ جن دنوں میں جاب کر رہا تھا تو ایک دن میرا ایک دوست مجھ سے ملنے آیا اور مجھ سےسوال کیا ”خالد تو نے اپنا نصیب کتنے میں بیچا ہے؟“ یہ سن کر میں حیران ہوا اور ان کا چہرہ دیکھنے لگا اور کہا کہ ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا، آپ کیا کہہ رہےہیں“ وہ کہنے لگے کہ ”آپ نے مالک کو دس ہزار کے عوض اپنا نصیب بیچ دیا ہے اور اب آپ کا مالک اس نصیب سے لاکھوں روپیہ کمائے گا، کیا کبھی اس کے بارے میں سوچا؟“ میرے دوست کا یہ کہنا تھا کہ میں نےدل میں تہیہ کر لیا کہ ان شاءاللہ مناسب وقت پر اپنا کاروبار شروع کروں گا۔ اگر آدمی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو تبدیلی خودبخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ آج کسی بھی تعلیمی ادارے میں ایم بی اے کی کلاس میں چلے جائیں اور وہاں طالب علموں سے پوچھیں کہ ایم بی اے کرنے کے بعد آپ کیا کرنا چاہتے ہیں تو نوے فیصد سے زائد طالب علموں کا یہ جواب ہوگا کہ ہم نےجاب کرنی ہے۔ جب نیت ہی جاب والی ہوگی تو کاروبار کرنا کیسے ممکن ہوگا اور جو لوگ ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں رسک لینے کا حوصلہ نہیں ہوتا جبکہ رسک کے بغیر کاروبار نہیں ہوتا۔
ہم نے خود سے ذہن میں بٹھا رکھا ہے کہ فلاں کاروبار اچھا ہے فلاں برا ہے، یہ کرنا چاہیے یہ نہیں کرنا چاہیے۔ کاروبار ایک ہوتا ہے لیکن اس میں ایک شخص بھوکا ہوتا ہے جبکہ دوسرا ارب پتی ہوتا ہے. اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں کاروبار میں ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ جو کاروبار ایک خاندان میں نسل در نسل چلا آ رہا ہوتا ہے، اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اس کی جگہ نیا کاروبارشروع کر دیا جاتا ہے۔ جو خاندان ایک کاروبار کر رہا ہو، فرض کریں کہ اس خاندان کا ایک بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ آ جاتی ہے، اب جس کو پہلے ہی کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ ہو، اسے اس کاروبار میں کامیاب ہونا آسان ہوتا ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں میں جو مایوسی اور ڈپریشن ہے، اس کی دو وجوہات ہیں، پچاس فیصد نوجوانوں کے ذہنوں میں ذات پات کے مسائل چل رہے ہیں، ان کے دماغوں میں ایک ہی سوچ ہے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، اس لیے ترقی نہیں کر سکتا، میرے والد کا فلاں پیشہ ہے، جو میری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، حالانکہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کا حبیب کہا ہے۔ پچاس فیصد نوجوان ایسے ہیں جن کے ذہنوں میں امیر اور غریب کی تفریق پائی جاتی ہے، ان کے دماغوں میں بس یہی چل رہا ہوتا ہے کہ فلاں اس وجہ سے آگے چلا گیا کہ اس کا باپ امیر ہے، میں تو غریب کا بیٹا ہوں، اس لیے آگے نہیں جا سکا حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں جتنے امیر لوگ ہیں، ان میں سے اسی فیصد کا تعلق متوسط یاغریب طبقے سے ہے۔ امیر لوگوں کی اولاد کمفرٹ زون رہتی ہے جس کی وجہ سے ان میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا جبکہ محرومی خواب بناتی ہے اور محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب برابر ہیں،u امیر کا بچہ بھی اسی پروسس سے پیدا ہوتا ہے، جس پروسس سے غریب کا بچہ پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے، جو امتحان ہوتے ہیں وہ تو درجات بڑھانے کے لیےu ہوتے ہیں۔
ناکامی تکرار کرنے سے بڑھتی ہے، خاموشی اختیار کرنے سے کم ہوتی ہے، صبر کرنے سے ختم ہوتی ہے، اور شکر کرنے سے کامیابی میں بدل جاتی ہے جس کسی کو اپنے کام میں کسی قسم کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس حدیث قدسی کے مفہوم کو سامنے رکھے کہ ”ساری دنیا مل کر نفع پہنچانا چاہے لیکن رب نہ چاہے تو نفع نہیں ہو سکتا اور ساری دنیا مل کر نقصان پہچانا چاہے لیکن رب نفع پہچانا چاہے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ کوئی بھی والدین اپنی اولاد کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے اور وہ ذات ِباری تعالیٰ جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ کیسے چاہے گا کہ میرا بندہ ناکام ہو، اس لیے بندے کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھا گما ن رکھنا چاہیے، اسے سوچنا چاہیے کہ اگر میرے حالات اچھے نہیں ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوگی۔ اگر غور کیا جائے، کئی حالات و واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جب بندہ ان سےگزر رہا ہوتا ہے تو شدید کرب میں ہوتا ہے اور اس وقت اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے، ان سے چھٹکارہ مل جائے لیکن وہی حالات اس کی کامیابی کے لیے سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں، بعد میں بندہ جب ان کو دیکھتا ہے تو سوچتا ہے کہ اگر وہ حالات پیش نہ آتے تو آج میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتا۔ جو بندہ پریشانیوں کو سر پر اٹھاتا ہے، وہ اس کے نیچے دب جاتا ہے اور جو پریشانیوں کو پاؤں کے نیچے رکھتا ہے، اس کا قد پہلے سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔
جو شخص اچھا بزنس مین، اچھا ٹیچر، اچھا مینجر یا اچھا والد بننا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے اچھا انسان بننا پڑے گا۔ کسی بھی شعبےمیں کامیاب ہونے کے لیے سب سے پہلے اچھا انسان بننا بہت ضروری ہے، یہی کاروبار میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ آج ہم نے یقین بنا لیا ہے کہ جھوٹ کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، اس نے بتایا ہے کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے اور صرف وہی کچھ کرنا ہے، جس سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان یہ کیا کہ اس نے حضوراکرم ﷺ کو ہماری ہدایت کے لیے بھیجا، آج ہمارے پاس قرآنِ پاک ہے، آپ ﷺ کی سیرت طبیہ ہے جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے کبھی ترجمے کے ساتھ قرآنِ مجید نہیں پڑھا، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ نہیں کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو جذباتی حد تک تو آپﷺ سے عشق کرتی ہے لیکن انہیں آپﷺ کے شب و روز کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ سب سے بہترین طریقہ حضوراکرم ﷺ کی اطاعت ہے، سوفیصد کامیابی کا راستہ حضوراکرم ﷺ کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ قرآن ِپاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے، یہ ہرانسان کے لیے کھلا خط ہے۔ دنیا و آخرت کی ترقی کے لیے اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
کسی بھی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن ہم خود ہی اس کو مشکل بناتے ہیں۔ بچپن میں جب بندہ سائیکل چلانا سیکھتا ہے تو کئی دفعہ گرتا ہے لیکن اس کے باوجود سائیکل چلانا سیکھ جاتا ہے، اگر اس وقت اسے پوچھا جائے کہ کیا سائیکل چلانا آسان ہے یا مشکل ہے تو وہ جواب دےگا کہ بہت آسان ہے، بالکل ایسے ہی کوئی بھی کاروبار جب شروع کیا جاتا ہے تو اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر اور اپنے آپ پر یقین ہوتا ہے، وہ سوفیصد کامیاب ہو جاتے ہیں، جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اپنے سے امید ہوتی ہے، وہ پچاس فیصد کامیاب ہوتے ہیں اور پچاس فیصد ناکام ہوتے ہیں جبکہ جو مایوس ہوتے ہیں اور انھی اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہوتا، وہ سوفیصد ناکام ہو جاتے ہیں۔ نپولین ہل بھی اپنی کتاب Think and Grow Rich کے پہلے باب میں یقین کا ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان کا پیشہ اور مشغلہ ایک ہوتا ہے، اگر کام اور مشغلہ ایک نہ ہو تو پھر محنت مشقت بن جاتی ہے اور بندہ ا نتظار کرتا رہتا ہے کہ کب وقت ختم ہو اور میری جان چھوٹے جب مشغلہ اور کام ایک ہوتا ہے تو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کام اور مشغلے کے ایک ہونے کے علاوہ کاروبار میں تعلیم کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان نابینا ہوتا ہے، تعلیم کے بغیر بندہ نہ تو دین کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کو، جس کے پاس تعلیم بھی ہو اور عمل بھی ہو تو وہ دو دھاری تلوار بن جاتا ہے اور جو شخص محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، کامیابی اس کے
کاروبار اور کامیابی – سید قاسم علی شاہ
ممتاز سماجی، روحانی شخصیت اور پنجاب بناسپتی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ملک خالد یعقوب کاروبار اور کامیابی کے حوالے سے اپنا اظہارخیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 1984ء میں لاہور سے سیل مین کی جاب سے اپنی پریکٹیکل زندگی کا آغاز کیا اور 1990ء میں جاب چھوڑ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ جن دنوں میں جاب کر رہا تھا تو ایک دن میرا ایک دوست مجھ سے ملنے آیا اور مجھ سےسوال کیا ”خالد تو نے اپنا نصیب کتنے میں بیچا ہے؟“ یہ سن کر میں حیران ہوا اور ان کا چہرہ دیکھنے لگا اور کہا کہ ”میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا، آپ کیا کہہ رہےہیں“ وہ کہنے لگے کہ ”آپ نے مالک کو دس ہزار کے عوض اپنا نصیب بیچ دیا ہے اور اب آپ کا مالک اس نصیب سے لاکھوں روپیہ کمائے گا، کیا کبھی اس کے بارے میں سوچا؟“ میرے دوست کا یہ کہنا تھا کہ میں نےدل میں تہیہ کر لیا کہ ان شاءاللہ مناسب وقت پر اپنا کاروبار شروع کروں گا۔ اگر آدمی اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو تبدیلی خودبخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ آج کسی بھی تعلیمی ادارے میں ایم بی اے کی کلاس میں چلے جائیں اور وہاں طالب علموں سے پوچھیں کہ ایم بی اے کرنے کے بعد آپ کیا کرنا چاہتے ہیں تو نوے فیصد سے زائد طالب علموں کا یہ جواب ہوگا کہ ہم نےجاب کرنی ہے۔ جب نیت ہی جاب والی ہوگی تو کاروبار کرنا کیسے ممکن ہوگا اور جو لوگ ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں رسک لینے کا حوصلہ نہیں ہوتا جبکہ رسک کے بغیر کاروبار نہیں ہوتا۔
ہم نے خود سے ذہن میں بٹھا رکھا ہے کہ فلاں کاروبار اچھا ہے فلاں برا ہے، یہ کرنا چاہیے یہ نہیں کرنا چاہیے۔ کاروبار ایک ہوتا ہے لیکن اس میں ایک شخص بھوکا ہوتا ہے جبکہ دوسرا ارب پتی ہوتا ہے. اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں کاروبار میں ناکامی کی ایک وجہ یہ ہے کہ جو کاروبار ایک خاندان میں نسل در نسل چلا آ رہا ہوتا ہے، اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اس کی جگہ نیا کاروبارشروع کر دیا جاتا ہے۔ جو خاندان ایک کاروبار کر رہا ہو، فرض کریں کہ اس خاندان کا ایک بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ آ جاتی ہے، اب جس کو پہلے ہی کاروبار کی پچاس فیصد سمجھ ہو، اسے اس کاروبار میں کامیاب ہونا آسان ہوتا ہے۔ آج ہمارے نوجوانوں میں جو مایوسی اور ڈپریشن ہے، اس کی دو وجوہات ہیں، پچاس فیصد نوجوانوں کے ذہنوں میں ذات پات کے مسائل چل رہے ہیں، ان کے دماغوں میں ایک ہی سوچ ہے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، اس لیے ترقی نہیں کر سکتا، میرے والد کا فلاں پیشہ ہے، جو میری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، حالانکہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کا حبیب کہا ہے۔ پچاس فیصد نوجوان ایسے ہیں جن کے ذہنوں میں امیر اور غریب کی تفریق پائی جاتی ہے، ان کے دماغوں میں بس یہی چل رہا ہوتا ہے کہ فلاں اس وجہ سے آگے چلا گیا کہ اس کا باپ امیر ہے، میں تو غریب کا بیٹا ہوں، اس لیے آگے نہیں جا سکا حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں جتنے امیر لوگ ہیں، ان میں سے اسی فیصد کا تعلق متوسط یاغریب طبقے سے ہے۔ امیر لوگوں کی اولاد کمفرٹ زون رہتی ہے جس کی وجہ سے ان میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا جبکہ محرومی خواب بناتی ہے اور محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب برابر ہیں، امیر کا بچہ بھی اسی پروسس سے پیدا ہوتا ہے، جس پروسس سے غریب کا بچہ پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے، جو امتحان ہوتے ہیں وہ تو درجات بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں۔
ناکامی تکرار کرنے سے بڑھتی ہے، خاموشی اختیار کرنے سے کم ہوتی ہے، صبر کرنے سے ختم ہوتی ہے، اور شکر کرنے سے کامیابی میں بدل جاتی ہے جس کسی کو اپنے کام میں کسی قسم کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس حدیث قدسی کے مفہوم کو سامنے رکھے کہ ”ساری دنیا مل کر نفع پہنچانا چاہے لیکن رب نہ چاہے تو نفع نہیں ہو سکتا اور ساری دنیا مل کر نقصان پہچانا چاہے لیکن رب نفع پہچانا چاہے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“ کوئی بھی والدین اپنی اولاد کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے اور وہ ذات ِباری تعالیٰ جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ کیسے چاہے گا کہ میرا بندہ ناکام ہو، اس لیے بندے کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اچھا گما ن رکھنا چاہیے، اسے سوچنا چاہیے کہ اگر میرے حالات اچھے نہیں ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوگی۔ اگر غور کیا جائے، کئی حالات و واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ جب بندہ ان سےگزر رہا ہوتا ہے تو شدید کرب میں ہوتا ہے اور اس وقت اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے، ان سے چھٹکارہ مل جائے لیکن وہی حالات اس کی کامیابی کے لیے سیڑھی کا کردار ادا کرتے ہیں، بعد میں بندہ جب ان کو دیکھتا ہے تو سوچتا ہے کہ اگر وہ حالات پیش نہ آتے تو آج میں اس مقام تک نہ پہنچ پاتا۔ جو بندہ پریشانیوں کو سر پر اٹھاتا ہے، وہ اس کے نیچے دب جاتا ہے اور جو پریشانیوں کو پاؤں کے نیچے رکھتا ہے، اس کا قد پہلے سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔
جو شخص اچھا بزنس مین، اچھا ٹیچر، اچھا مینجر یا اچھا والد بننا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے اچھا انسان بننا پڑے گا۔ کسی بھی شعبےمیں کامیاب ہونے کے لیے سب سے پہلے اچھا انسان بننا بہت ضروری ہے، یہی کاروبار میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ آج ہم نے یقین بنا لیا ہے کہ جھوٹ کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، اس نے بتایا ہے کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے اور صرف وہی کچھ کرنا ہے، جس سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان یہ کیا کہ اس نے حضوراکرم ﷺ کو ہماری ہدایت کے لیے بھیجا، آج ہمارے پاس قرآنِ پاک ہے، آپ ﷺ کی سیرت طبیہ ہے جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے کبھی ترجمے کے ساتھ قرآنِ مجید نہیں پڑھا، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ نہیں کیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو جذباتی حد تک تو آپﷺ سے عشق کرتی ہے لیکن انہیں آپﷺ کے شب و روز کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ سب سے بہترین طریقہ حضوراکرم ﷺ کی اطاعت ہے، سوفیصد کامیابی کا راستہ حضوراکرم ﷺ کا بتایا ہوا راستہ ہے۔ قرآن ِپاک کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے، یہ ہرانسان کے لیے کھلا خط ہے۔ دنیا و آخرت کی ترقی کے لیے اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
کسی بھی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن ہم خود ہی اس کو مشکل بناتے ہیں۔ بچپن میں جب بندہ سائیکل چلانا سیکھتا ہے تو کئی دفعہ گرتا ہے لیکن اس کے باوجود سائیکل چلانا سیکھ جاتا ہے، اگر اس وقت اسے پوچھا جائے کہ کیا سائیکل چلانا آسان ہے یا مشکل ہے تو وہ جواب دےگا کہ بہت آسان ہے، بالکل ایسے ہی کوئی بھی کاروبار جب شروع کیا جاتا ہے تو اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر اور اپنے آپ پر یقین ہوتا ہے، وہ سوفیصد کامیاب ہو جاتے ہیں، جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے اور اپنے سے امید ہوتی ہے، وہ پچاس فیصد کامیاب ہوتے ہیں اور پچاس فیصد ناکام ہوتے ہیں جبکہ جو مایوس ہوتے ہیں اور انھی اپنی کامیابی کا یقین نہیں ہوتا، وہ سوفیصد ناکام ہو جاتے ہیں۔ نپولین ہل بھی اپنی کتاب Think and Grow Rich کے پہلے باب میں یقین کا ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں، ان کا پیشہ اور مشغلہ ایک ہوتا ہے، اگر کام اور مشغلہ ایک نہ ہو تو پھر محنت مشقت بن جاتی ہے اور بندہ ا نتظار کرتا رہتا ہے کہ کب وقت ختم ہو اور میری جان چھوٹے جب مشغلہ اور کام ایک ہوتا ہے تو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کام اور مشغلے کے ایک ہونے کے علاوہ کاروبار میں تعلیم کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان نابینا ہوتا ہے، تعلیم کے بغیر بندہ نہ تو دین کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کو، جس کے پاس تعلیم بھی ہو اور عمل بھی ہو تو وہ دو دھاری تلوار بن جاتا ہے اور جو شخص محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، کامیابی اس کے پیچھے بھاگتی ہے۔

Thursday, April 27, 2017

The Brain..

It was a sports stadium..  8 Children were standing on a track to participate in a running event.


Readyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyy!!!!!!!!
Steadyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyyy!!!!!!!!!
 Bang!!!!!!!!!

with the sound of toy pistol, all 8 girls started running... Hardly have they covered 10 to 15 steps, one of the smaller girls slipped & fell down.

Due to bruises & pain she started crying. when other 7 girls heared her, all stopped running, stood for  a while , turned back & ran to the girl...



One among them, gently inquired. All 7 Girls lifted the fallen girl, pacified her, all seven joined hands together & reached the winning point...

Officials were shocked!!!!!!!

Many eyes were filled with tears.. It happened recently... 

The sports was conducted by National Institute of Mental Health...

All participants were spastic children....  Yes,,, they were mentally retarded.

What did they teach?????
Team-work, humanity, Equality among all... WE can't do this ever because we have got a so called

 THE BRAIN..!!!


Thursday, March 13, 2014

Scheme of Courses for Pharm.D. (Five-Year Course):

Scheme of Courses for Pharm.D. (Five-Year Course):

1st Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
ENG 300
PHARM 310
PHARM 311
PHARM 312

PHARM 313
PHARM 314
English-A (Functional English)            
Pharmaceutics-IA  (Physical Pharmacy)
Pharmaceutical  Chemistry-IA (Organic)
Pharmaceutical Chemistry-IIA (Biochemistry)
Physiology-A
Anatomy & Histology
2
3+1
3+1
3+1

3+1
3+1
ENG 301
PHARM 315
PHARM 316
PHARM 317

PHARM 318
English-B (Communication & Writing skills)
Pharmaceutics-IB  (Physical Pharmacy)
Pharmaceutical Chemistry-IB (Organic)
Pharmaceutical Chemistry-IIB (Biochemistry)
Physiology-B

4
3+1
3+1
3+1

3+1
                                                                Total Cr. Hr. 22
                                                                  Total Cr. Hr. 20


2nd Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
IS 402
PHARM 410 

PHARM 411

PHARM 412
PHARM 413
PHARM 414
Islamic Studies
Pharmaceutics-IIA  (Dosage Form Science)
Pharmaceutics-IIIA  (Pharmaceutical Microbiology & Immunology)
Pharmacology and Therapeutics-IA
Pharmacognosy-IA (Basic)
Pharmacy Practice-IA  (Pharmaceutical
Mathematics)
3

3+1

3+1
3+1
3+1

3
PS 403
PHARM 415

PHARM 416

PHARM 417
PHARM 418
PHARM 419
Pakistan Studies
Pharmaceutics-IIB  (Dosage Form Science)
Pharmaceutics-IIIB (Pharmaceutical Microbiology & Immunology)
Pharmacology and Therapeutics-IB
Pharmacognosy-IB (Basic)
Pharmacy Practice-IB (Bio-statistics)
2

3+1

3+1
3+1
3+1
3
Total Cr. Hr. 22
Total Cr. Hr. 21


3rd Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
PHARM 510

PHARM 511

PHARM 512
PHARM 513
PHARM 514


Pharmacy Practice-IIA
(Dispensing Pharmacy)
Pharmaceutical Chemistry-IIIA
(Pharmaceutical Analysis)
Pharmacology and Therapeutics-IIA
Pharmacognosy-IIA (Advanced)
Pathology


3+1

3+1
3+1
3+1
3+1

PHARM 515

PHARM 516

PHARM 517
PHARM 518
PHARM 519

Pharmacy Practice-IIB (Community,
Social & Administrative Pharmacy)
Pharmaceutical Chemistry-IIIB
(Pharmaceutical Analysis)
Pharmacology and Therapeutics-IIB
Pharmacognosy-IIB (Advanced)
Pharmacy Practice-III
(Computer and its Applications in
Pharmacy)
3

3+1
3+1
3+1

3+1
                                                                          Total Cr. Hr. 20
                                                                          Total Cr. Hr. 19





4th Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
PHARM 610

PHARM 611

PHARM 612

PHARM 613

PHARM 614

Pharmacy Practice-IVA (Hospital
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VA
 (Clinical Pharmacy)
Pharmaceutics-IVA (Industrial
Pharmacy)
Pharmaceutics-VA (Biopharmaceutics
& Pharmacokinetics)
Pharmaceutics-VIA  (Pharmaceutical
Quality Management)

3

3+1

3+1

3+1

3+1
PHARM 615

PHARM 616

PHARM 617

PHARM 618


PHARM 619
Pharmacy Practice-IVB  (Hospital
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VB
 (Clinical Pharmacy)
Pharmaceutics-IVB (Industrial
Pharmacy)
Pharmaceutics-VB (Biopharmaceutics & Pharmacokinetics)
Pharmaceutics-VIB (Pharmaceutical
 Quality Management)
3

3+1

3+1

3+1


3+1
                                                                        Total Cr. Hr. 19
                                                                           Total Cr. Hr. 19


5th (Final) Professional Pharm. D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.

PHARM 710

PHARM 711

PHARM 712

PHARM 713

PHARM 714

Pharmaceutics-VIIA (Pharmaceutical Technology)
Pharmacy Practice-VIA  (Advanced
Clinical Pharmacy-II)
Pharmacy Practice-VIIA (Forensic
Pharmacy)Scheme of Courses for Pharm.D. (Five-Year Course):

1st Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
ENG 300
PHARM 310
PHARM 311
PHARM 312

PHARM 313
PHARM 314
English-A (Functional English)            
Pharmaceutics-IA  (Physical Pharmacy)
Pharmaceutical  Chemistry-IA (Organic)
Pharmaceutical Chemistry-IIA (Biochemistry)
Physiology-A
Anatomy & Histology
2
3+1
3+1
3+1

3+1
3+1
ENG 301
PHARM 315
PHARM 316
PHARM 317

PHARM 318
English-B (Communication & Writing skills)
Pharmaceutics-IB  (Physical Pharmacy)
Pharmaceutical Chemistry-IB (Organic)
Pharmaceutical Chemistry-IIB (Biochemistry)
Physiology-B

4
3+1
3+1
3+1

3+1
                                                                Total Cr. Hr. 22
                                                                  Total Cr. Hr. 20


2nd Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
IS 402
PHARM 410 

PHARM 411

PHARM 412
PHARM 413
PHARM 414
Islamic Studies
Pharmaceutics-IIA  (Dosage Form Science)
Pharmaceutics-IIIA  (Pharmaceutical Microbiology & Immunology)
Pharmacology and Therapeutics-IA
Pharmacognosy-IA (Basic)
Pharmacy Practice-IA  (Pharmaceutical
Mathematics)
3

3+1

3+1
3+1
3+1

3
PS 403
PHARM 415

PHARM 416

PHARM 417
PHARM 418
PHARM 419
Pakistan Studies
Pharmaceutics-IIB  (Dosage Form Science)
Pharmaceutics-IIIB (Pharmaceutical Microbiology & Immunology)
Pharmacology and Therapeutics-IB
Pharmacognosy-IB (Basic)
Pharmacy Practice-IB (Bio-statistics)
2

3+1

3+1
3+1
3+1
3
Total Cr. Hr. 22
Total Cr. Hr. 21


3rd Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
PHARM 510

PHARM 511

PHARM 512
PHARM 513
PHARM 514


Pharmacy Practice-IIA
(Dispensing Pharmacy)
Pharmaceutical Chemistry-IIIA
(Pharmaceutical Analysis)
Pharmacology and Therapeutics-IIA
Pharmacognosy-IIA (Advanced)
Pathology


3+1

3+1
3+1
3+1
3+1

PHARM 515

PHARM 516

PHARM 517
PHARM 518
PHARM 519

Pharmacy Practice-IIB (Community,
Social & Administrative Pharmacy)
Pharmaceutical Chemistry-IIIB
(Pharmaceutical Analysis)
Pharmacology and Therapeutics-IIB
Pharmacognosy-IIB (Advanced)
Pharmacy Practice-III
(Computer and its Applications in
Pharmacy)
3

3+1
3+1
3+1

3+1
                                                                          Total Cr. Hr. 20
                                                                          Total Cr. Hr. 19





4th Professional Pharm.D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.
PHARM 610

PHARM 611

PHARM 612

PHARM 613

PHARM 614

Pharmacy Practice-IVA (Hospital
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VA
 (Clinical Pharmacy)
Pharmaceutics-IVA (Industrial
Pharmacy)
Pharmaceutics-VA (Biopharmaceutics
& Pharmacokinetics)
Pharmaceutics-VIA  (Pharmaceutical
Quality Management)

3

3+1

3+1

3+1

3+1
PHARM 615

PHARM 616

PHARM 617

PHARM 618


PHARM 619
Pharmacy Practice-IVB  (Hospital
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VB
 (Clinical Pharmacy)
Pharmaceutics-IVB (Industrial
Pharmacy)
Pharmaceutics-VB (Biopharmaceutics & Pharmacokinetics)
Pharmaceutics-VIB (Pharmaceutical
 Quality Management)
3

3+1

3+1

3+1


3+1
                                                                        Total Cr. Hr. 19
                                                                           Total Cr. Hr. 19


5th (Final) Professional Pharm. D.

1st Semester
2nd Semester
Course No.
Subject
Cr. Hr.
Course No.
Subject
Cr. Hr.

PHARM 710

PHARM 711

PHARM 712

PHARM 713

PHARM 714

Pharmaceutics-VIIA (Pharmaceutical Technology)
Pharmacy Practice-VIA  (Advanced
Clinical Pharmacy-II)
Pharmacy Practice-VIIA (Forensic
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VIIIA
(Pharmaceutical Management & Marketing)
Pharmaceutical Chemistry-IVA
(Medicinal Chemistry)
3+1

3+1

3

3

3+1

PHARM 715

PHARM 716

PHARM 717

PHARM 718

PHARM 719


Pharmaceutics- VIIB (Pharmaceutical Technology)
Pharmacy Practice-VIB  (Advanced
Clinical Pharmacy-II)
Pharmacy Practice-VIIB (Forensic
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VIIIB
(Pharmaceutical Management & Marketing)
Pharmaceutical Chemistry-IVB
(Medicinal Chemistry)
3+1

3+1

3

3

3+1
                                                             Total Cr. Hr. 18
                                                              Total Cr. Hr. 18

Pharm.D. Five-Year Credit Hours Summary:
Pharm.D.
1st Semester
2nd Semester
Total
Professional
Cr. Hr.
Cr. Hr.
Cr. Hr.
1st
2nd
3rd
4th
Final
22
22
20
19
18
20
21
19
19
18
42
43
39
38
36
Total Credit Hours
          101         99
97
              198
                       
            
Pharmacy Practice-VIIIA
(Pharmaceutical Management & Marketing)
Pharmaceutical Chemistry-IVA
(Medicinal Chemistry)
3+1

3+1

3

3

3+1

PHARM 715

PHARM 716

PHARM 717

PHARM 718

PHARM 719


Pharmaceutics- VIIB (Pharmaceutical Technology)
Pharmacy Practice-VIB  (Advanced
Clinical Pharmacy-II)
Pharmacy Practice-VIIB (Forensic
Pharmacy)
Pharmacy Practice-VIIIB
(Pharmaceutical Management & Marketing)
Pharmaceutical Chemistry-IVB
(Medicinal Chemistry)
3+1

3+1

3

3

3+1
                                                             Total Cr. Hr. 18
                                                              Total Cr. Hr. 18

Pharm.D. Five-Year Credit Hours Summary:
Pharm.D.
1st Semester
2nd Semester
Total
Professional
Cr. Hr.
Cr. Hr.
Cr. Hr.
1st
2nd
3rd
4th
Final
22
22
20
19
18
20
21
19
19
18
42
43
39
38
36
Total Credit Hours
          101         99
97
              198