Friday, December 21, 2012

Exams..Oh My GOD!!!

Exams-an activity which disturb all routine work of a healthy student & is acted upon  by a burden of work on poor guys...:)

Keeping in view the logic of exam i decided to share my some personal experiences with my loved ones..hope you'll bear it .

Our daily life is composed of number of exams especially of a student.. i:e; 
studies
Sense of  loneliness
Fear of having good fame in the class
Target of visiting all bazaars of a market and streets as well///:)


In spite of Above all there is a huge burden of Exams also..
Which we call as Exam stress,





Whenever i looked at notice board of my department and find a word of EXAMS, my mind seems to gave up all its hope to have a spare time with luxurious sleep...:(

Some natural phenomenon took place automatically in my daily routine:

Sleep comes to my bed more swiftly &  peacefully.. 

My mind took it a hard task to put up a page of my work..

I feel headache of new style abruptly.

It seems to me that someone asks me to go out for a walk on bike in winter without
covering myself with mine Upper!!


I feel that i had not connected to my contact list since a long time..

Ideas comes to my mind & i compose messages for peace of mind!!!!

When






Its doesn't matter that what i want to study.. just to have all my books/notes on my bed to have a sleep with adventurous ideas..

Oh!!!! you are walking long way on the road (which is the most favorite activity among my  all habits ,:)
It sound to me every time..



 












 The most unique experience and the bitter one of all to be engaged in exams in a duration of about 2 month..

Actually i have no problem with that but when any ask me oh!!! CM, you are attempting your exams since 2 months... :( I feel something like that someone is beating me with any weapon..)


To have supplies in exams doesn't make my mind the feeling of hurt or something like that.. Because its the only time when i find my way to have recognition with my teachers, seniors, juniors in a respectable way..


As Sir irfan (examination in-charge) says:

Beta time ho gya hai paper ka ,chalein pher??? :)

The senior of supplementary community of our department address me as:

Bro fresh ho,, humara b khiyal rakhna!!!! :)

A junior looks like a sacrificial animal..and ask???

Bhai  agar dobara supple aa jye tou drop out tou nhe hun gy na!!! ;) hahahahah 

i really enjoy this all in real sense,, its also motivation for those who just leave their studies just to have less marks in subjects ,would like to say that..

God created us & He Promised to give us everything for a good life style..

we just have to say thanks for His blessings & face every problem with smiling face..:))))

Wednesday, December 12, 2012

Thursday, December 06, 2012

Merit laptops/internships distrbution in sargodha university

Chief Minister Shahbaz Sharif earlier today arrived at Sargodha for distribution of laptops and intership badges to merit scholars of Sargodha Division. CM was given a historic welcome by merit scholars on his arrival as they cheered and chanted slogans. The atmosphere was extremely electrifying as thousands of students waved flags and cheered. CM in his address stated that never in the history of Pakistan have such steps been taken for education as they have been taken in the last 4 years. CM stated that those who unnecessarily criticize the Punjab Government should realize that unprecedented steps have been taken for students such as the establishment of 4300 IT Labs in all High Schools all across Punjab; from Attock to Rajanpur, position holders are given guard of honour and sent to Europe to visit the World’s top Universities. CM became very emotional while talking about the orphans who study in Daanish Schools and tears came into his eyes as he quoted his discussion with Ayesha, a double orphan who studies in Daanish School Bahawalpur. CM further stated that he would continue to work for the betterment of education and reward deserving brilliant

As a student of this institute i think we were honoured three times by CM in last 6 months, while our institute was being neglected since the time of its creation..


                                              A view of pindal at university cricket ground 










Wednesday, November 21, 2012

ایک پردیسی کی کہانی !



پاکستان یا انڈیا میں جس بندے نے اچھے کلف لگے اکڑے هوئے کپڑے پہنے هوں ، بڑا صاف ستھرا بن کے بیٹھا هو بقول شخصے ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دے ،
اس سے پوچھ کر دیکھیں کہ بھائی صاحب آپ کا کاروبار کیا هے ؟ تو زیادہ تر کا جواب هو گا بھائی یا بیٹا باہر
هوتا ہے


یا یہ سوال کیا جائے ، بھائی آپ کیا کرتے هو؟

تو ان کا کوئی مصاحب پاس سے جواب دے گا جی پیسہ ان کے لیے مسئلہ ہی نہیں ہے ،
آ پ نے سنا نہیں ہے کہ ان کے بھائی اور بیٹے باہر هوتے هیں .


یہ تحریر بھی اسی موضوع پر ہے۔ جو کہ ایک پر
دیسی اور اس کے گھر والوں کے مابین خطوط کی شکل میں ہے۔
شاید کچھ لمبی تحریر ہے لیکن پڑھیں گے تو اچھی لگے گی

 پیارے ابو جان اور امی جان

 

مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارادہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔
 آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں

آپکا پیارا – جمال

پیارے بیٹے جمال

تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔

تمھاری پیاری امی اور ابو۔

پیارے ابو جان اور امی جان

میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔

آپکا پیارا – جمال

پیارے بیٹے جمال

تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ 


 تمھاری پیاری امی اور ابو۔

 

پیارے ابو جان اور امی جان

آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔

آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمال




بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔


(بیوی ) پیارے جمال

میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔


آپکی پیاری ۔ زہرہ

 

پیاری شریک حیات زہرہ



انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔

تمھارا شریک سفر – جمال

پیارے جمال

آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی، آپکے جواب کی منتطر ،
 آپکی پیاری ۔ زہرہ


اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔


خود بھی پڑھیں اور دوستوں کو بھی شیئر کریں

Monday, November 19, 2012

Gaza on Fire.. shame on US, EU, Israeil

The brutal Israeli aggression and airstrikes on Gaza continue and the helpless Palestinians have no hope of international intervention. The U.N. Security Council has called for a halt to the violence but is reluctant to take immediate action. The U.S. and EU policy of double standards continues to condemn Hamas as an obstacle to peace for its refusal to accept Israeli occupation.

The Israeli attack on Gaza is far from that state’s first act of aggression. It has always been a nation of assassins throughout history.

Scores of Palestinian leaders have been murdered by the Israeli occupiers of Palestinian land, including the paraplegic Sheikh Ahmed Yassin who was assassinated by a missile fired by an Israeli helicopter gunship while he was returning home from early morning prayers in a wheelchair. And now the French are assisting in the investigation of the death of Yasser Arafat which many suspect to have been the result of Israeli poisoning.



Israel has never been shy about freely using American-supplied weaponry to mow down Palestinian protestors including children. It is now also embarking on the theft of Palestinian agricultural land and water.

American activist Rachel Corrie who dared to support the Palestinians was killed by an Israeli tractor. Her murder was played down by the American media and the strong Israeli hold on America stopped an award-winning play about her from being performed in New York.


The whole world has to put up with the arrogance of Netanyahu who has openly involved himself in U.S. domestic politics with little or no objection from U.S. lawmakers. He arrogantly attacks and calls for the veto of any resolution, however mild, against Israeli terrorist acts in Palestine.

Noam Chomsky in his recent visit to Gaza described it as hell. Jewish bloggers and prominent human rights activists have denounced Israeli brutality in Gaza, but words are meaningless and do nothing to stop the violence. When all is said and done, Israel continues to have the support of the United States and the European Union.


The support of the West is what emboldens Israeli occupiers to continue their apartheid rule. The myth that has been told in the West to justify the Israeli occupation of Palestine is that Israel is the only democracy in the Middle East and that the Palestinians are terrorists and the Arabs are threatening neighbors. These claims are far from the truth: Syria is a defanged state, Egypt and Jordan have peace treaties with Israel and Lebanon is at the mercy of Israeli attacks.


The fact is that Israel is a powerful state, armed with nuclear weapons and has the support of stronger Western allies. Its weak Arab neighbors are no match for its military power and its systematic designs to create a Greater Israel. The helpless Palestinians are left to fend for themselves with no one to come to their rescue. They are brutalized for daring to fight for their freedom and for a life of dignity.



The Israeli blockade of the Gaza Strip is a crime against humanity and the failure of the U.S. and EU to rescue the innocent Palestinian population from Israeli brutality is equally inhumane. Gaza has been under siege since 2006. It has been described as an open air prison. Israel exercises military, political and economic control over the West Bank and Gaza.


The Gaza blockade continues and although the U.S. and EU are reluctant to put an end to inhumane acts of Israeli aggression and brutality, they are nonetheless quick to reprimand Hamas and to label them as terrorists for attempting to fight back in their battle for survival.

The Israelis scoff at any sympathy extended to the Palestinian people.


Israeli citizens continue to manipulate and distort reality and describe Palestinians as militants who should be tried for war crimes and other crimes against humanity. They add that the Muslim Brotherhood should also be tried for crimes against humanity, and they ask the U.N. to charge Hamas for this ongoing terror.


In fact the U.N. has repeatedly raised its humanitarian concerns about Israeli aggression to the Israeli authorities, however Israel has never been punished or restrained even after killing 1,400 Palestinians, mostly women and children, in Gaza in 2009. Israel continues to justify its actions with arrogance and contempt for Palestinians who are resisting the occupation of their land and are retaliating against aggression.

Israel is built on stolen land. In 1948 Zionist militias evicted Palestinians from their land and destroyed their homes and farms.


Over the years thousands of Palestinians have been murdered by Israeli airstrikes and armored incursions into Gaza and the Palestinian territory.

Large numbers of women and children are either in jail or continue to suffer under inhumane circumstances. Unfortunately the Western media plays down this Israeli brutality in its news coverage and attempts to justify Israeli atrocities in Occupied Palestine.


According to the U.N., over half of the civilians in Gaza are children and yet Israel has no qualms about blocking the supply of food, medicine and fuel. It has committed war crimes without any punishment or international boycotts as were imposed by the international community on Iraq and now on Syria and Iran.

Israel claims that it is defending itself from rocket attacks from Gaza, rockets that are being launched in retaliation to the continued Israeli blockade of Gaza.


However over the years, the over-exaggerated fear of Palestinian rockets has done little damage as compared to brutal Israeli airstrikes, the Gaza blockade, the Israeli settlement expansion, the imposed sanctions and boycotts, the erection of the racist separation wall, the banning of construction of Palestinian homes, the closing of Palestinian institutions, the imposition of heavy taxes and the loss of Palestinian livelihood by uprooting olive trees and confiscating land.


However, what is more alarming is the American and EU support for the Israeli blockade, because this is what allows Israel to act with such impunity and arrogance.


Israeli acts of genocide against the Palestinians will not stop the Palestinian resistance movement. No amount of lies and justification will make the Arab street abandon the Palestinian cause even if some Arab leaders sign peace treaties with the Israeli terrorist state.


Israel wants to abrogate treaties. It has always been defiant in its refusal to accept a two-state solution. It refused the peace plans presented by Arab states and still claims that the Arabs are a threat to Israel. It is outraged at any criticism and refuses to define its national borders. Israelis continue to twist the truth and repeat their lies to justify their murders and their theft of Palestinian land.


Israeli settlers who evict Palestinians from their homes show no remorse or sympathy, labeling the people of Gaza as terrorists to legitimize their brutal behavior against the rightful owners of the land.


Palestinian factions need to join together to confront the formidable Israeli enemy. Hamas should go on a diplomatic offensive and reevaluate its policies. Divided the Palestinians do not stand a chance, but if they are united they will be in a better position to defend their land. Meanwhile, Egypt has condemned the airstrikes on Gaza and Egyptian PM Hisham Kandil went to visit Gaza to show support.


The time has come for Egypt to open the border crossing and allow help to enter Gaza. America and the EU must take a stronger stand to protect the helpless Palestinians and put an end to Israeli genocide. Arab and Muslim countries need to devise a more effective strategy to end the genocide against the Palestinian people and to pressure Israel and its allies to accept the Arab peace initiative and end the Arab Israeli conflict that has deprived the entire region of peace and stability.




(This article was published on the Saudi Gazette on Nov. 17, 2012.)


WORLD WIDE PROTESTS:

Protesters gathered in front of the Israeli embassy on 50 O'Connor Street in Ottawa on Friday, November 16, 2012 to protest against Israeli action in Gaza. Protesters then marched in front of Parliament Hill demanding the end of violence in Gaza, as well as condemning Stephen Harper and Canadian government for its lack of effort.













Today we speak for  Rights of Animals But not for humans and specially for Poor Muslims in all parts of world, whether they are prejudiced in Palestine, barma, Kashmir, Afghanistan, Pakistan, India,iraq or anywhere.. Where are human organizations today???? Today we have no idea about Palestinian public who are facing Israel brutality since years.. i salute to the courage of Palestinian public, Govt. that they take oath to fight for their country, people, religion.. 

You will be successful in your struggle Brothers!!!!! InshaAllah

Friday, November 09, 2012

جدید بنکاری سسٹم اور اسلام

ایک مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو (انفرادی ہو یا اجتماعی، معاشرے کے حوالے سے ہو یا معاش کے حوالے سے، اخلاقیات پر مبنی ہو یا کہ سیاسیات پر )ایسا نہیں جس کے بارے میں شریعت نے رہنمائی نہ فرما دی ہو۔

بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اسلام سے دوری کے باعث اسلام کی بے پایا قیمتی اور چمکتی دھمکتی تعلیمات سے غافل ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو نماز روزہ کی پابندی تو کرتے ہیں لیکن ان کا دین بھی بد قسمتی سے نماز روزہ سے آگے کچھ نہیں سوچتا ان کی سوچ کا محور وہیں پر ختم ہو جاتا ہے اور وہی کچھ ان کے لیے دین ہے۔ اور اس کے برعکس معاش کے معاملے میں اسلام کو اس طرح نظر انداز کرتے ہیں جیسے اسلام نے معاشی نظام کے حوالے سے کچھ بھی بیان نہ کیا ہو۔

یہاں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ جدید دور میں بنکاری سسٹم کی الجھنوں میں الجھ کر ہمارے کچھ علماء کرام بھی جو ان الجھنوں کو سمجھ نہیں پاتے ان معاملات کو جائز اور حلال تصور کرتے ہیں اور اس کے حق میں فتاوی بھی جاری کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جدید معاملات کو خود بھی سمجھا جائے اور جن لوگوں کی ذمہ داری مسلم امہ کو تبلیغ ووعظ کی ہے ان کو بالخصوص اس معاملے میں گائیڈ کیا جائے تا کہ لوگوں کو اپنے شیریں بیانوں سے گائیڈ کریں اور اس الجھاؤ والی حرام معاشیات سے دور کریں۔



انہی جدید مالی معاملات کے الجھاؤ میں سے ایک انشورنس کا معاملہ بھی ہے جس کو ہمارے بہت سے دین دار لوگ بھی بہتر چیز سمجھتے ہیں اور مختلف انداز میں پالیسیاں خریدتے ہیں اور اپنی لائف کو ’انشور‘ کرتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کسی ایسے معاشرے میں رہ رہا ہوتا ہے جہاں وہ مجبورا اس انشورنس کے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں پراپرٹی،
 گاڑیاں یا دیگر اشیاء کی خریداری پر انشورنس قانونی جزو قرار دی جاتی ہے۔





ہم یہاں پر انشورنس کی تاریخ کے حوالے سے بات نہیں کریں گے، ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انشورنس ہے کیا؟؟؟

انشورنس انگلش کے لفظ ’Insure‘ سے لیا گیا ہے جس کے معنی ضمانت اور اعتماد کے ہیں۔۔۔ عربی میں اس لفظ کا زیادہ بہتر ترجمہ ہوتا ہے ’’التأمین‘‘ جو ’امن‘‘ سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے اطمینان دلانا۔

انشورنس کی تعریف یہ ہے کہ ایک ادارہ کسی شخص ، بزنس، گاڑی وغیرہ کے ممکنہ خطرات کی پیش نظر اس کو ضمانت دیتا ہےکہ اگر آپ کو فلاں فلاں خطرات لاحق ہوں تو ان نقصانات کی تلافی ادارہ (انشورنس کرنے والا) کرے گا۔ اور اس ضمن میں جس کی انشورنس کی جا رہی ہے وہ مذکور ادارے کو مدت معینہ تک پالیسی کی قیمت کے حساب کے مطابق قسطوں میں ایک مقررہ رقم جمع کرواتا رہے گا۔

انشورنس کی بے شمار قسموں میں سے ہم یہاں صرف لائف انشورنس کا ذکر کریں گے،،، جس میں انشورنس کمپنی کسی بھی شخص سے اس کی زندگی کی انشورنس کرتی ہے،،، اور پالیسی کی قیمت کے حساب سے شخص مذکور کو کمپنی میں قسط وار طے شدہ مدت تک ایک مخصوص رقم جمع کروانی ہوتی ہے۔ اور اگر خدانخواستہ قسطوں کی مدت پوری ہونے سے انشورنس کروانے والا شخص فوت ہو جاتا ہے تو کمپنی اس کے ورثاء کو طے شدہ رقم ادا کر دیتی ہے بھلے اس کی قسطوں میں سے 20 فیصد بھی جمع نہ ہوا ہو۔

اور اگر قسطیں پوری ہونے تک شخص مذکو رزندہ رہے اور قسطیں باقاعدگی سے ادا کرتا رہے تو پھر اس صورت میں کمپنی اس کو طے شدہ رقم بمع طے شدہ اضافے کے واپس کرتی ہے۔



انشورنس لائف کے حوالے سے چند الفاظ لکھنے کے بعد میں ذکر کر دوں کہ درج ذیل وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر انشورنس کی تمام شکلیں لائف انشورنسہو، کمرشل انشورنس ہو، گاڑیوں کی انشورنس ہو، تھرڈ پارٹی انشورنس ہو یا کسی اور قسم کی انشورنس اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قطعی ناجائز اور حرام ٹھہرتی ہیں۔



خرابیاں:

1۔ انشورنس میں سود کی قسم ’’ربا النسیئۃ‘‘ (ادھار پر رقم لی اور واپسی میں اضافہ کے ساتھ دی) پائی جاتی ہے۔ اور دوسری قسم سود کی اس میں ’’ربا الفضل‘‘ پائی جاتی ہے۔ یہ بھی اسی سے ملتی جلتی قسم ہے کہ اصل مال پر مخصوص مارک اپ سے اضافی رقم وصول کرنا۔

اس میں چونکہ ہوتا یہ ہے کہ انشورنس کروانے والا اگر مکمل قسطیں ادا کیے بنا فوت ہو جائے تو کمپنی تو طے شدہ رقم اپنی شرائط کے مطابق اس کے ورثاء کو ادا کرے گی جو اس کی ادا کی ہوئی رقم سے یا زیادہ ہو گی یا کم۔ اگر ادا کی گئی قسطوں سے رقم زیادہ ہو تو تو یہ ’’ربا الفضل‘‘ میں آ جاتا ہے۔ اور اگر ادا کی گئی رقم سے کم ہو تو ربا النسئیۃ میں آجاتا ہے۔



2۔ اسلام نے کسی کو ’’بیع غرر‘‘ (دھوکے ونقصان کی خرید وفروخت) کی اجازت قطعی نہیں دی ہے اور انشورنس میں قطعی طور پر بیع غرر کی صورت حال ہوتی ہے۔

کیونکہ ادائیگی ایک ایسے واقعہ کی بنیاد پر ہوتی ہے جو ہو گا بھی کہ نہیں۔ اگر واقعہ ہو گیا اور انشورنس کروانے والا فوت ہو گیا تو سراسر نقصان کمپنی کا ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شخص مذکور حیات رہے اور تمام تر اقساط کمپنی کو جمع کرواتا رہے اور اس صورت میں اس کی تمام تر اقساط بلامعاوضہ کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہیں۔ اور یہ صورت انشورنس کروانے والے کے لے زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔



یہاں ایک وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شرعی طور پر کسی معاملہ میں ذمہ داری اس شخص کے سر پڑتی ہے جس سے ڈائیریکٹ نقصان ہوا ہو یا پھر کم از کم اس نقصان کے ہونے کا باعث بنا ہو۔ اس صورت میں وہ کمپنی یا شخص نقصان کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔ جبکہ بیمہ پالیسیوں میں بیمہ کمپنی کی طرف سے ایسا کوئی سبب نہیں بنتا نہ وہ خود ڈائیریکٹ نقصان کرتے ہیں اور نہ ہی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

لہٰذا جب ایسی صورت ہو نہ خود انہوں نے نقصان کیا اور نہ ہی نقصان کا باعث بنے تو شریعت ان پر نقصان کی ادائیگی کی ذمہ داری قطعی نہیں ڈالتی۔

 انشورنس لائف کے حوالے سے جو مختصر خادم کو سمجھ آیا نوٹ کر دیا۔...

Thursday, November 08, 2012

نظروں کی حفاظت


ایک نوجوان نے ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر کر عرض کیا کہ آپ فرماتے ہیں کہ بد نظری سے پرہیز کرو ، لیکن بازار میں جاتے ہوئے مجھ سے اپنی نظروں کی حفاظت نہیں ہوتی ، نوجوان ہو اور بازار میں بے پردہ لڑکی کو دیکھ کر نظر اس کی طرف اٹھ ہی جاتی ہے ، کیا کروں
بزرگوں نے کہا کہ میں یہ راز سمجھا دوں گا پہلے میرا ایک کام کرو
یہ دودھ کا پیالہ فلاں بزرگ کو دے کر آؤ جو بازار کے دوسرے سرے پر رہتے ہیں ، لیکن ایک شرط ہے کہ پیالے میں سے دودھ بالکل نہ گرے
نوجوان نے کہا کہ بالکل بھی نہیں گرے گا ، ان بزرگوں نے کہا کہ اچھا میں ایک مضبوط سا آدمی تمہارے ساتھ کر دیتا ہوں اگر دودھ کا ایک قطرہ بھی گرا تو وہ وہیں بازار میں تمہیں دو جوتے لگائے گا
نوجوان نےکہا کہ منظور ہے ، بزرگ نے ایک پیالہ دودھ کا بھر کے نوجوان کو دے دیا اور ایک آدمی ساتھ کر دیا ،
اب نوجوان نے بڑی احتیاط سے بغیر دودھ کو گرائے وہ پیالہ بازار کے دوسرے کونے پر رہنے والے بزرگ کو پہنچا دیا ، اور خوشی خوشی واپس آیا اور کہا کہ حضرت میں نے وہ پیالہ پہنچا دیا ہے اب آپ مجھے نظر کی حفاظت کا طریقہ بتا ئیں



بزرگ نے پوچھا دودھ گرا تو نہیں تو اس نے کہا کہ نہیں بالکل نہیں بزرگ نے پوچھا اچھا یہ بتاؤ کہ جاتے ہوئے کتنی شکلوں کو دیکھا نوجوان کہنے لگا کہ ایک بھی نہیں پوچھا کیوں تو اس نے جواب دیا کہ میرا سارا دھیان پیالے کی طرف تھا کہ کہیں دودھ نہ کر جائے کیونکہ اگر دودھ گرتا تو مجھے دو جوتے لگتے اور بازار میں میری رسوائی ہو جاتی ، اسلیئے میرا کسی کی طرف دھیان نہیں گیا
بزرگ نے کہا کہ یہی اللہ والوں کا حال ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے دل کے پیالے پر نگاہ رکھتے ہیں اور اسے چھلکنے نہیں دیتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر گناہ کی وجہ سے پیالہ چھلک گیا ، نظر بہک گئی تو قیامت والے دن سب کے سامنے رسوائی ہو گی
اللہ کا خوف اور روز قیامت رسوائی کا اندیشہ ہو تو کبھی بھی بد نظری نہ ہو گی

Friday, November 02, 2012

12 Tips for Muslim Youth

Why should you, a young Muslim, be helping to bring your friends closer to Allah?


After all, you've got your own struggles to deal with: trying to explain why you pray to hostile teachers, Hijab discrimination, standing up in class when the professor attacks Islam, dealing with parents who think you've gone nuts because you're growing a beard, or all the other difficulties faced by a number of practicing Muslim youth?


Islam was never meant to be an individualistic faith, reserved for the "chosen few". Muslims have a duty to spread the Deen, and practicing Muslim youth, whether beginners, activists or leaders have a crucial role to play.


"Allah has put them in a position that perhaps no one else is in," notes Sheema Khan, former Muslim Youth of North America (MYNA) advisor for eastern Canada. "They have the means to communicate with their peers, they have an understanding of what they're going through plus they have the guidance of Islam."



Who is your childhood friend, who would rather spend Fridays at MacDonald's than the Masjid, or your classmate who is Muslim in name and only knows that "Muslims don't eat pork" going to listen to: the nice Imam of the Masjid who would freak out if he saw the way they were dressed and talked or you who may have grown up with them, joked with them, or see them everyday in school?The answer is obvious: you.Don't panic. Here are some tips and advice which can help from other Muslims, many of whom have been
there and done that:


 Make your intention sincere:


All work we do should ideally be for the sake of Allah. That includes the task of bringing someone closer to Allah. That of course means this should not be connected to arrogance, thinking you're the teacher and everyone else should be lucky you've embarked on a crusade to save them. Guidance is from Allah. Make Dua and make sincere efforts and remember Allah can also misguide you if He wills (we seek refuge in Allah from that).


Practice what you preach:


Not practicing what you preach is wrong and you will lose the confidence of anyone, young or old, once they figure you out. Don't do it.


Use the Quran and Seerah (biography of the Prophet) as Dawa guides:


Read and understand those chapters of the Quran which talk about how the Prophets presented the message of Islam to their people. Read the Seerah (for some good Seerah books)to see especially how the Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) brought Islam to so many different people, including young people.As well, talk to Dawa workers, and check out manuals they may have written, like Yahiya Emerick's How to Tell Others About Islam.


Talk to people as if you really don't know them:


Don't assume you know someone just by looking at them. You don't know that the Muslim girl in your homeroom who walks through the school's hallways as if they were fashion show catwalks (see Ambe Rehman's perspective on thisis not someone you can talk to about Allah because she looks like a snob. Or that the Muslim guy who you've never seen at Juma at your university is a "bad Muslim". Maybe he was never really taught Islam and has no idea what importance Friday prayers have in Islam, especially for Muslim men.


Smile:


Did you know the Prophet was big on smiling? But many "practicing" Muslims seem to have "their faces on upside down" as one speaker once said-frowning and serious.

Smiling, being polite and kind are all part of the manners of the Prophet, which we must exercise in our daily lives. If we want to approach others with Islam, we have to make ourselves approachable. Smiling is key to this.But note that being approachable does not mean being flirtations with the other gender. There are Islamic rules for how men and women should deal with each other which have to be respected. Dawa is no excuse to have long and private conversations and meetings with the other sex, for example. Set up a system where someone expressing an interest in Islam is referred to someone of the same sex.

Take the initiative and hang out with them:

Take the first step and invite someone you may have spoken to a couple of times to sit at lunch together, to check out a hockey game or invite them over for Iftar in Ramadan. Also, share difficulties, sorrows and frustrations. Help with homework, be a shoulder to cry on when depression hits, or just plain listen when your friend is upset, discuss common problems and KEEP THEIR SECRETS. There are few things as annoying as a snitch and backstabber. But an important note: if the problem is of a serious nature,(i.e. your friend is thinking of committing suicide or is taking drugs), notify and consult an adult immediately.


Show them Islam is relevant today, right here, right now:


Young people may think Islam is too "old fashioned" and not in tune with the modern age. Prove this wrong. Show how Islam is really about relating to Allah, which any human being can do, anywhere, anytime. Allah is always closer to you than your jugular vein and He hears and knows everything. Encourage friends to ask Allah's help during tests, exams, and in dealing with problems at home with parents and siblings. Also point out how Islam relates to teenagers: Islam gives you focus and an understanding of who you are and where you are going, which most of "teen culture" does not.


Get them involved in volunteer work with you:


If you are already involved in the community, get your friend to help out. Ask them to make a flyer for one of your youth group's events or brainstorm for ideas about activities to hold this school year. This involvement makes them feel part of the Muslim community and deepens your friendship, since you are now working together on something beneficial for both of you. Make sure you thank them for their contribution.


Ask them 4 fundamental questions:


As your friendship develops, you will notice the topics you discuss may become more serious. You may be discussing, for instance, future goals and plans. Khan recommends four questions to ask that can steer the topic to Allah and Islam:
a. Where am I going in life and what would make me really happy deep down inside?
b. What do I believe?
c. Who should I be grateful to?
d. Did I get to where I am today without the help of anyone?


Emphasize praying five times a day before any other aspect of Islam:


A person's main connection with Allah, on a daily basis, is through the prayer five times a day. Don't emphasize any other aspect of Islam until your friend starts making a real effort to pray five times a day. Emphasize the direct connection one has with Allah in prayer. If they are facing a problem, tell them to pray, and to ask Allah for help in Salah and outside this time. When possible, make it a point to pray together during your "hang out time". If your friend begins to pray, that is the first step to other aspects of Islam like giving up swearing, treating parents with respect or dressing Islamically.


Help instill confidence in adults:


Adults, like Bart Simpson's dad Homer, are considered bumbling idiots in the eyes of "teen culture". Your job as a young Muslim is to help turn the tables on this false and unIslamic belief. All you have to do is this: when a Muslim adult does something good (i.e. saving someone's life, donating money to a worthy cause, the Imam gives a good speech, taking good care of his/her family) bring it up in the course of your conversations with your friend and praise the adult in question. Doing this regularly may not only change your friend's perspective, but could lead to them seeing their own parents in a more respectful way.


Support them even when they become more practicing:


Remember, just because a person starts practicing Islam more regularly, this does not mean everything will be okay from this point onwards. There will still be hard times, difficulties. There may be times when your friend may have doubts about his or her newfound practice of Islam. Be there to reassure them.

Thursday, November 01, 2012

‎7 Dangerous acts after a meal.

1.Don't smoke-Experiments from experts proves that smoking a cigarette after meal is comparable to smoking 10 cigarettes(chances of cancer is higher)

2.Don't eat fruits immediately Immediately eating fruits after meals will cause stomach to be bloated with air.Threfore take fruits 1-2 hours after meal or 1 hour before meal







3.Don't drink tea-Because tea leaves contain a high content of acid. This substance will cause the protein content in the food we consume to be hundred thus difficult to digest.

4.Don't loosen your belt-Loosening the belt after meal will easily cause the intestine to be twisted and blocked

5.Don't bath-Bathing after meal will cause the increase of blood flow to the hands,legs and body thus the amount of blood around the stomach will therefore decrease,this will weaken the digestive system in our stomach

6.Don't walk about People always say that after a meal walk a hundred steps and you will live till 99.In actual fact this is not true. Walking will cause the digestive system to be unable to absorb the nutrition from the food we intake.

7.Don't sleep immediately The food we intake will not be to digest properly.Thus will lead to gastric and infection in our intestine.

10 things a girl probably doesn’t know about a guy


1. Guys are more emotional then they think, if they loved them truly.


2. Guys may be flirting around all day but before they go to sleep, they always think about the girl they truly carcare about.

3. Guys go crazy over a girl’s smile.


4. A guy who likes you wants to be the only guy you talk to.


5. Guys are more emotional than they’d like people to think.

6. Girls are guys’ weaknesses.

7. If a guy tells you about his problems,he just needs someone to listen to him. You don’t need to give advice.

8. When a guy asks you to leave him alone, he’s just actually saying, “Please come and listen to me.”


9. No guy can handle all his problems on his own. He’s just too stubborn to admit it.


10. When a guy sacrifices his sleep and health just to be with you, he really likes you and wants to be with you as much as possible ♥


Sunday, October 21, 2012

Guinness book of world record of Most people Singing National Anthem Simultaneously by pakistanis

Yes. We did it!! Pakistan has shown the World its greatness once again. Sports Board Punjab has proved its worth. Record was attempted on the Opening Ceremony of Punjab Youth Festival 2012 at National Hockey Stadium Lahore on 20th October 2012 at 07:45PM and Pakistan has become a New Guinness World Records Record Holder. and Pakistan is the New Guinness World Records Record Holder of Most people Singing National Anthem Simultaneously.




                            Certificate issued by Guinness world records

Only One Attempt has been given to the Pakistan to write its history in the book of Guinness World Records in the     presence of record adjudicator and by the Grace of ALLAH ALMIGHTY Pakistan did it



.
     Punjab youth festiva 2012-history making event


The Pakistani National Anthem was sung in an electrifying atmosphere by enthusiastic and charged 42813 people including the CM himself.

congrats to punjab sports board, punjab govt. the public of pakistan.


Moments During the ceremony...






                                                      A view during ceremony



                                  Critical moment during Singing national anthem




Representation of culture of punjab(pakistan) a message for world our countary is fertile land of Cultural history


 نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں 42 ہزار 813 افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھنے کا ورلڈ ریکارڈ 
قائم کردیا، گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے پاکستان کو سرٹی فکیٹ دے دیا۔ لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمائندے گیرتھ ڈیوز نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 42 ہزار 813 پاکستانیوں نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اردو میں کہاکہ آپ نے ورلڈ ریکارڈ بنادیا۔ گیرتھ ڈیوز نے بتایا کہ اس سے قبل بھارت میں 15 ہزار افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا تھا۔ پنجاب اسپورٹس بورڈ کے زیر اہتمام یوتھ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں ہزاروں افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا۔تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، معروف سنگر علی ظفر، کھلاڑیوں، طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبہ جات 
سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ 


                       Student from various institutes doing rehersal of singing anthem



Guinness Book of World Records official adjudicator Gareth Deaves..







                                           jamnastics showing their skills



20 october 2012 is the historical day in our time which is memorable for me.. because of the facts that:
we convey message to world that we are peace-loving nation.
Whether it is Karachi, Peshawer, Quetta or Lahore pakistais' heart beats together.
We have cultural history, talent, determination besides all difficulties of internal of external affairs..
Pakistan is not a security risk..
We give honour to our guests.. whether its our companion of enemy..
Please show the world our bright side too.. a common pakistani